1 جنوری 2025 - 15:41
قم: سندھ حکومت کا پر امن مظاہرین پر لاٹھی چارج شرمناک، صدر جامعہ روحانیت خیبر پختونخوا

حوزہ علمیہ قم میں صدر جامعہ روحانیت خیبر پختونخوا، مولانا عادل حسن نے کہا: میں کراچی میں پر امن مظاہرین پر پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں ایسے واقعات کو آئندہ دھرایا گیا تو ہمارا رد عمل شدید ہوگا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی - ابنا –کے مطابق، جامعہ روحانیت خیبر پختونخوا کے صدر مولانا عادل حسن نے کہا کہ: کراچی میں پاراچنار کے 85 روزہ محاصرے کے خلاف وحدت مسلمین پاکستان کی طرف سے منعقدہ پرامن احتجاجی دھرنے میں پولیس گردی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ کے ایسے غیر قانونی اور غیر مہذب اقدامات کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے جس میں خواتین کی عزت کا خیال نہیں رکھا گیا اور بزرگ مجاہد عالم دین حجہ الاسلام و المسلمین سید حسن ظفر نقوی صاحب پر ظالم اور بداخلاق پولیس نے ہاتھ اٹھایا اور انہیں زد و کوب کیا گیا۔

مولانا عادل حسن نے مزید کہا: پولیس کے اس بہیمانہ اقدام کی مذمت کے لئے ہمارے پاس الفاظ نہیں ہیں؛ ایک بندہ پولیس کی براہ راست شیلنگ سے شہید ہو گیا ہے اور کافی مؤمنین زخمی ہوئے ہیں، چنانچہ ہمارا مطلبہ ہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ اور صوبہ سندھ کی ہائی کورٹ اس پولیس گردی کا از خود نوٹس لیں اور ذمہ دار افراد پر مقدمہ چلائیں۔ 

انھوں نے کہا: پاکستان حکمرانوں اور انتظامیہ کی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی ملکیت ہے؛ پی پی پی کی صوبائی حکومت کو شرم سے ڈوب مرنا  چاہیے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ پاراچنار کی طرف جانے والی قومی شاہراہ کو کھلنا چاہئے اور اس کا نہ کھلنا صوبائی حکومت کی نااہلی کا ثبوت ہے۔

عادل حسن نے مزید کہا: کے پی کے کا وزیر اعلی گنڈاپور صرف بونگیاں مارتا ہے حالانکہ بونگیاں مارنے سے صوبے کے مسائل حل نہیں کیے جا سکتے ہیں۔ 

انھوں نے مطالبہ کیا کہ صوبائی حکومت اور وزير اعلی گنڈاپور عملی طور پر عوام کو تحفظ دیں۔ 

مولانا عادل حسن نے کہا: کل صدہ کے مقام پر ایک غریب مسافر کو تکفیریوں اور خوارج نے جس طریقے سے قتل کرکے ذبح کیا یہ تکفیریوں کے وحشی پن اور درندگی ثابت ہونے کے لئے کافی ہے یہ لوگ انسان کہلانے کے قابل نہیں ہیں مسلمان تو دور کی بات ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔